Sunday, December 27, 2015

ورستئ مورچل، WROSTAY MORCHAL

روستئ مورچل نسیم حجازی کے مشہور تاریخی ناول آخری چٹان کا پشتو ترجمہ ہے. اس تاریخی ناول میں چنگیز خان کے ہاتھوں مسلمانوں کی تباہی اور اس دوران اس کے سامنے خوارزم شاہ کا چٹان کی طرح کھڑے ہونے کو موضوع بنایا گیا ہے.
یہ پشتو ترجمہ پڑھنے کے لیے نیچے کلک کریں.

  پڑھیے یا ڈاون لوڈ کریں

  WROSTAY MORCHAL

This is the Pashto translation of Nasim Hijazi's famous urdu novel Akhiri Chitaan. This book tells the story of  Changiz Khan's invasions and destructions of muslim countries and Khwarzam Shah who stands like a rock in his way.
Click the above link to read or download the book.

Saturday, December 26, 2015

د خوشحال فرھنگ، Da Khushal Farhang

خوشحال خان خٹک ایک سردار، سپہ سالار، جنگجو ، شاعر اور ادیب تھے. وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں. اس کتاب میں اس کی کتابوں کا فرہنگ دیا گیا ہے.
پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں.

   پڑھیے

Glossary of Khushal Khan Khattak

Khushal Khan Khattak was a warrior, leader and a great writer of Pashto language. This books consists of the glossary of Khushal Khan. It explains the terms and difficult words in his writings.
click the above link to read this book.

زوڑ سڑے او سیند، The Old Man And The Sea

زوڑ سڑے او سیند ارنسٹ ہیمنگ وے کے ناول دی اولڈ مین اینڈ دا سی کا پشتو ترجمہ ہے.ارنسٹ ہیمنگ وے نے 1952 میں دی اولڈ مین اینڈ دا سی نامی مشہور و معروف ناول لکھا جس میں ایک بوڑھے مچھیرے اور دیو ہیکل مچھلی کی کہانی بیان کی گئی ہے. سینتیاگو ایک بوڑھا اور تجربہ کار مچھیرا ہےــ لیکن اب وہ کمزور ہو چکا ہے. اکثر شکار کے بغیر واپس آتا ہے. دوسرے مچھیرے اس پر ہنستے ہیں. اس کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان کو والدین اس کے ساتھ جانے سے منع کرتے ہیں.
84 دن سے اسے کوئی شکار نہیں ملا اور وہ پریشان ہے. اگلے دن وہ شکار کے لیے نکلتا ہے اور ایک بڑی مرلن مچھلی اس کے کانٹے میں پھنس جاتی ہے. وہ بہت کوشش کرتا ہے لیکن مچھلی کو باہر نہیں نکال سکتا الٹا مچھلی اس کی کشتی کو اپنے ساتھ کھنچتی ہے. وہ دو دن تک بھوکا پیاسا اس حالت میں مچھلی کے ساتھ پھرتا ہے. اس کے ہاتھ لہولہان ہیں، بدن میں سکت نہیں لیکن اس کا عزم مضبوط ہے . اپنے اوپر ہنسنے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے یہ بہترین موقع ہے. آخر تیسرے دن وہ مچھلی پکڑ لیتا ہے. واپس آتے ہوئے شارک مچھلیاں حملہ آور ہو جاتی ہیں. وہ مقابلہ کرتا ہے اور کئی شارک مچھلیاں مارتا ہے لیکن منزل تک پہنچتے پہنچتے اس کی پکڑی ہوئی مچھلی کا گوشت شارک کھا چکے ہوتے ہیں. اس کی کشتی میں صرف ڈھانچہ رہ جاتا ہے. ساحل پر آکر وہ سیدھا کیبن جا کر لیٹ جاتا ہے جبکہ مچھیرے اور سیاح اس کی کشتی کے گرد جمع ہو کر حیرت سے اس قوی الجثہ مچھلی کے ڈھانچے کو دیکھتے ہیں.
کتاب پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں.

   پڑھیے یا ڈاون لوڈ کیجیے
Zorr saray ao seend

This is the pashto translation of Ernest Hemingway classic novel, the old man and the sea. It is the story of struggle between an old and experienced fisherman Santiago and a Merlin. How the old man captures the fish and how he faces the hardships of the sea is the story.
click the above link to download this book.



Friday, December 25, 2015

د پختونخواہ د شعر ھار وبہار از جیمز ڈارمسٹٹر Da Pakhtoonkhwa Da Sher Bagh o Bahar by James Darmesteter

جیمز ڈارمسٹٹر ایک مستشرق تھا. اسے مشرقی زبانوں خصوصاٍ پشتو زبان سے بہت لگاو تھا. اس نے فرانسیسی زبان میں " شان پاپولیز دیز افغان" نامی کتاب لکھی جس میں پشتو فوک شاعری کا انتخاب تھا. د پشتونخواہ د شعر ھار و بھار اس کا پشتو ورژن ہے.
اس انتخاب میں تاریخی، رزمیہ، مذہبی، اساطیری اور عشقیہ گیت اور غزل شامل ہیں.
آغاز میں پشتو ادب اور شاعری پر مفید معلومات دی گئی ہیں اور انتخاب میں شامل شعراء کا تعارف کیا گیا ہے.
پڑھنے یا ڈاون لوڈ کرنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کریں.

پڑھیے یا ڈاون لوڈ کریں

"Chants Populaires des afghans" or Da Pukhtoonkhwa Da Sher Her OBahar by James Darmesteter

James darmesteter was a famous orientalist. He love pashto language. He collected famous pashto songs in his famous collection Chants Populaires Des Afghans. Da pukhtoonkhwa da sher Har o bahar is its Pashto Version.
The selected songs include a variety of subjects like historical songs,religious songs,mythological songs and love songs. The writer has thrown light on pashto literature and poetry and has given an introduction of the poets whose poems are included in the collectio.
click the above link to read or download this book.

Thursday, December 24, 2015

مثنوی آدم خان درخانئ از صدر خان خٹک

رومیو جولیٹ، انتھونی قلوپطرہ، لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، سسی پنوں اور شیریں فرہاد کے عشق کی داستانوں کی طرح پشتونوں کی مشہور و معروف عشقیہ داستان آدم خان درخانئ ہے. اس عشقیہ داستان کو مختلف ادوار میں مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے.
خوشحال خان خٹک کے فرزند  صدر خان خٹک نے اس کہانی کو مثنوی کی صورت میں لکھا. مثنوی ایسی نظم ہوتی ہے جو ایک خاص بحر میں کہی جاتی ہے. اس کے ہر بند کے دونوں مصرعے آپس میں ہم قافیہ ہوتے ہیں. پشتو زبان کے اس مشہور و معروف مثنوی کو پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں.
Masnavi Adam Khan Durkhanay by Sadar Khan Khattak
Masnavi is a poem that has a specific meter and usually tells a story. There are famous love stories in every region like Romeo Juliet, Anthony & Cleopatra, laila majnoon, Shirin Farhad, yusaf zulaikha etc.. similarly the love story of Adam Khan and Durkhanay is the famous love story of Pashtoons. This story has many versions and here is the version written by Sadar Khan Khattak, the son of famous khushal khan khattak. Click the above link to read the book.

سوات نامہ از خوشحال خان خٹک، Swat Nama by Khushal khan khattak

خوشحال خان خٹک ایک صاحب سیف شاعر تھے. وہ خٹک قببیلے کے سردار تھے. مغلوں کے خلاف کئی لڑائیاں لڑیں. پٹھانوں کے یوسفزئ قبیلہ کے ساتھ جنگ و جدل کا میدان گرم رکھا. بعض مصلحتوں کی بناء پر یوسفزیوں کو ساتھ ملانے کی کوششیں بھی کیں.اس مقصد کے لیے سوات بھی گئے اور وہاں چند مہینے قیام کیا. اس کا نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلا لیکن اس سفر سے پشتو ادب کو سوات نامہ کی شکل میں ایک کلاسیک کتاب مل گئی.
سوات نامہ کا مطالعہ کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں.

   پڑھیے

Swat Naama By Khushal Khan Khattak

Khushal Khan Khattak was a warrior-poet. He was the leader of khattak tribe and fought many battles against Mughuls. He also kept enmity with rival Pashtoon tribe Yusufzai.
Once he tried to be on friendly terms with Yusufzais and to get their support against the Mughuls. For this purpose he visited Swat and spent some months there.
His visit to swat became the cause of his famous poetic work Swat Name.
Click the above link to read Swat Nama By Khushal khattak.

Wednesday, December 23, 2015

د میرزا خان انصاری دیوان Divan Of Mirza Khan Ansari

مرزا خان انصاری پشتو زبان کے کلاسیکی شاعر ہیں. وہ پیر روخان کے روشنائی مسلک کے ساتھ وابستہ تھے. بایزید روخان کے نواسے تھے. شاہ جہاں کے زمانے میں دکن کے علاقے دولت آباد میں دوران جنگ مارے گئے تھے.
میجر راورٹی نے اپنی کتاب پوئٹری آف افغان میں ان کا ذکر کیا ہے. دولت لوانڑی نے بھی کئی اشعار میں ان کا تزکرہ کیا ہے.
ان کا دیوان پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں.

  پڑھئیے
Mirza Khan Ansari was a classical pashto poet. He belonged to the famous Rokhanyan Tehreek. He was the grand son of Bayazid Rokhan. He was killed in a battle in Dawlat Abad near Deccan in the reign of Shah Jehan.
Major Raverty has mentioned him in his book " the poetry of afghans". Another classical poet of pashto Daulat Lawanri has named him in several couplets.
Click the above link to read his Diwan.