Tuesday, December 10, 2013

امراو جان ادا


امراو جان ادا از مرزا هادی رسوا


امراو جان ادا کو اردو ادب میں کلاسک کا درجه حاصل هے.اگر ناول کی تعریف اور لوازمات کا اطلاق اردو ادب پر کیا جایے تو ان کی روشنی میںامراو جان ادا هی اردو کا پهلا ناول بنتا هے.یه ایک طوایف کی کها نی هے.اس کے اغواا سے لے کر طوایف بننے اور توبه گار هونے تک تمام واقعات موثر انداز میں بیان کیے گیے هیں. اس دور کی طرز معاشرت کی عکاسی بھر پور انداز میں کی گیی هے.

اس ناول میں علم نفسیات سے بھی مدد لی گیی هے. شعر وشاعری کا بھی بھر پور استعمال کیا گیا هے. کردار نگاری اور واقعات جاندار هیں.ھر صاحب ذوق کو اس کتاب کا مطالعه ضرور کرنا چاهیے.

ناول کا خلاصه
یه ایک طوایف کی داستان هے جو فیض آباد کی رهنے والی تھی اور ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتی تھی.اس کے پڑوس میں دلاور خان نامی بدمعاش رهتا تھا.اس بدمعاش کے خلاف امراوجان کے باپ نے گواهی دی اور وه قید هوگیا.رهایی کے بعد اس بدمعاش نے آٹھ ساله امراو کو اغوا کرکے اپنے گھر میں قید کرلیا اور بعد میں مار ڈالنے کے لیے لے چلا لیکن ایک دوست نے مشوره دیا که اس لڑکی کو بیچ دو.ایک رنڈی کے هاں امراو کو بیچ دیا گیا.اس رنڈی نے امراو کو موسیقی اور دوسرے لوازمات کی تعلیم دی.اس مکان پر امراو کا ایک ڈومنی کے لڑکے گوهر مرزا سے عشق چل گیا.گوهر مرزا نے امراو کی عصمت ریزی کی.جب رنڈی کو اس بات کا علم هوا تو اس نے امراو کو باقاعده پیشه ور بنا دیا اور یوں وه بکنے لگی.
امراو کے هاں ایک نواب آتے تھےجنهیں وه دل سے چاهنے لگی.ایک ڈاکو امراو کو خانم کے کوٹھے سے بھگا کر لےگیا لیکن وه اور اس کے ساتھی راستے میں دھر لیے گیے.بڑی مشکل سے امراو کانپور پهنچی اور ایک کمره کرایه پر لے کر پیشه کرنے لگی.جلد هی اس نے شهرت پایی اور یهاں اس کی ملاقات رام دیی سے هویی جو خانم کے کوٹھے پر اس کےره چکی تھی.خانم کے واقفین نے اسے کانپور میں پایا تومنا کر لکھنو واپس لے گیے
غدر کے زمانه میں امراو لکھنو کے نوابوں کے هاں تھی.اس زمانے میں جب انگریزوں نے اودھ کے باغیوں کو تتر بتر کر دیا تو امراو جان بچا کر فیض آباد آگیی.یهاں اس کا خوب چرچا هوا.ایک دن امراوجان کو ایک مجرے کے لیے ایک ایسے محلے میں لے جایا گیا جهاں املی کا پیڑ دیکھ کر امراو کو اپنا بچپن یاد آگیا.اسے یاد آیا که قریبی مکان ان کا هے.اس کو ماں یاد آگیی.اس کا دل چاه رها تھا که ابھی جا کر ماں کے گلے لگ جایے لیکن پھر سوچا که خاندان کی بدنامی هوگی..اس دوران عورتیں اسے بلا کر ایک قریبی مکان میں لے گیی جهاں اس کی ماں نے کان پر موجود پیدایشی نشان سے پهچان لیا.دونوں خوب روییں.وه واپس اپنے ٹھکانے پر آیی تو دوسرے دن اس کا بھایی اسے قتل کرنے آیالیکن خدا نے اسے بچا لیا.وه وهاں سے واپس چلی گیی اوراپنا دھنده کرنے لگی.ایک نواب نے دعوی کیا که امراو ان کی منکوحه هے لیکن ایک دوسرے نواب نے امراو کی مددکی اور امراوجان اس کے هاں تین سال تک رهی
ایک دن درگاه میں میں امراو کی ملاقات رامدیی سے هوی.رام دیی اس نواب کے هاں ره رهی تھی جن سے اوایل عمر میں امراو نے عشق کیا تھا.امراو اس بات سے بهت دلگیر هویی.
ایک دن امراو بخشی کے تالاب پر سیر کو گیی تھی که سڑک کنارے ایک آدمی کو گھاس کھودتے دیکھا اور پهچان لیا که وه دلاورخان هے جو اسے اغوا کرکے لے گیا تھا.پولیس کو اطلاع دی گیی اور اسے گرفتار کر لیا گیا. اور بعد میں وه پھانسی هوگیی. امراو نے توبه کرلی، حج کا فریضه سرانجام دیا اور پردے میں رهنے لگی

ناول پڑھنے کے لیے کلک کریں

اس ناول کی فلم دیکھنے کے لیے کلک کریں


1 comment:





  1. اس ناول(امراو جان ادا) کوڈاونلوڈ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

    ReplyDelete